آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 174
15:22

2026/04/05

سب کو قومی پرچم تلے اکٹھا ہونا چاہئے ؛ متولی آستان قدس رضوی 

سب کو قومی پرچم تلے اکٹھا ہونا چاہئے ؛ متولی آستان قدس رضوی 
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ایران کے سبھی ہمدردوں اور وفاداروں کو چاہئے کہ وہ قومی اتحاد کے پرچم تلے جمع ہوجائيں کہا کہ اتحاد رہبر شہید انقلاب کی اہم ترین وصیت ہے 

 آستان نیوز کے مطابق آستان قدس رضوی کے متولی نے مشہد مقدس کے معروف جانبازاسکوائر پر عوام کے  بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران 
یکم اپریل کو اسلامی جمہوری نظام کے حق میں ایرانی عوام کے تاریخی فیصلے اور ووٹ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ  یکم اپریل 1979 کو 98٪ فیصد سے زائد ایرانی عوام نے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔  
انہوں نے کہا کہ پہلے ہی روز سے ایران کے دشمن اور اس سرزمین کی خود مختاری اور عظمت کے مخالفین نے اس نظام کی مخالفت اور اس کو نابود کرنے کی کوشش شروع کردی تھی ۔ اگر اس47 سال کی تاریخ کی ورق گردنی کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا دشمنوں نے اس نظام کو ختم کرنے کے لئے جو بھی ہوسکتا تھا وہ سب کچھ کیا اور کسی بھی کوشش سے دریغ نہيں کیا ۔ انہوں نے طرح طرح کے حربوں اور خانہ جنگی جیسے ہتھکنڈوں  نیز دہشت گرد گروہوں کو آگے بڑھا کر اور آٹھ سال تک ایران پر جنگ مسلط کرکے ہر طرح سے ایران کے اسلامی نظام کو  گرانے کی کوشش کی ۔ اس کے علاوہ دشمنوں نے اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے طویل عرصے سے سخت ترین ظالمانہ پابندیاں عائد کیں تاکہ اس نظام کو ختم کردیں ۔
آ‎ستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ اس کے باوجود دشمنوں کو اپنے کسی بھی مقصد میں کامیابی نہیں ملی اور وہ ایران کے اسلامی نظام کو اپنے ظالمانہ اور سامراجی نئے عالمی نظام کے دائرے میں نہیں لاسکے اور نہ ہی اس کو ختم کرسکے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اسلامی نظام کی اس پائيداری اور استحکام کو متعدد بنیادی عوامل میں تلاش کیا جاسکتا ہے 
 انہوں نے پہلا عامل الہی عنایت کو قرار دیا اور کہا کہ ہمیں اس نظام کے سلسلے میں الہی لطف و عنایت اور قوت کا یقین ہے کیونکہ یہ نظام توحید اور تقوا کے محور پر استوار ہے ۔ امام خمینی (رح) نے اس نظام کو قائم کرنے میں صرف اور صرف اللہ کی رضا و خوشنودی ، حق کی سربلندی ، ظالموں کے خلاف جہاد اور مظلوموں کے دفاع کو مدنظر رکھا تھا ۔اس لحاظ سے پہلا عامل یہی الہی لطف وعنایت ہے جو اس نظام کے شامل حال ہے جو تقوا اور توحید و خدامحوری کی بنیاد پر استوار ہے۔ 
آيت اللہ مروی نے دوسرا عامل امام خمینی (رح) کی قیادت اور پھر رہبرشہید انقلاب اسلامی کے ذریعے انقلاب کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانے کی حکمت و درایت کو قراردیا اور کہا کہ امام خمینی (رح) اور رہبرشہید انقلاب اپنی قیادت اور رہبری کے برسوں کے دوران، خدا وندمتعال کی ذات پر بھروسہ اور توکل کرکے دشمنوں کے مقابلے میں سرمو بھی پیچھے نہيں ہٹے اورانقلاب کےاعلان شدہ اقدار سے ذرہ برابربھی پسپائي اختیار نہيں کی 
ان کا کہنا تھا کہ امام خمینی( رح) اور شہید امام خامنہ ای دشمنوں کی دھمکیوں سے کبھی بھی مرعوب نہيں ہوئے کیونکہ وہ خدا وند متعال کی ذات پر توکل کرتے تھے اور نصرت الہی پر ان کا پختہ یقین و ایمان تھا ۔
آیت اللہ مروی نے قرآن کریم میں الہی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خداوندعالم نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر وعدہ کیا ہے کہ جو ہمارے دین کی نصرت کرے گا ہم اس کی مدد کریں گے اور خداوندعالم ہرگز اپنے وعد ے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔ اس حقیقت پر یقین اس بات کا باعث بنتا ہے کہ مومن انسان کی نگاہ  میں مادی طاقوں کی کوئي حیثیت نہ رہے  اور مومنوں کے دلوں میں کوئي خوف و  ہراس نہ ہو ۔
آستان قدس رضوی  کے متولی نے اسلامی نظام کے استحکام اور پائیداری کا تیسرا عامل عوام کی بصیرت اور ہوشیاری کو قراردیا اور کہا کہ پچھلے 47 سال کے عرصے میں جس محاذ نے دشمنوں کو مایوس اور ان کے سارے منصوبے ناکام بنائےہیں وہ عوامی محاذ رہا ہے مختلف مراحل اور میدان میں عوام  کی مسلسل اور آگاہانہ موجودگی ہی انقلاب کی حفاظت اور پاسداری کا عامل اور باعث رہی ہے 
 عوام نے ہی انقلاب کی حفاظت کی ہے 
آيت اللہ مروی نے کہا کہ عوام نے انقلاب کی حفاظت اور اس کی پاسداری کی ہے اور رہبرشہید انقلاب کے بقول یہ عوام ہی ہیں جنھوں نے دراصل قیادت کا  کردار ادا کیا ہے اور درحقیقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ خود عوام ہی انقلاب کے حقیقی قائد اور رہبر ہیں 
انہوں نے کہا کہ عوام کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن ہے چنانچہ اگر اللہ پر ایمان اور اعتقاد رکھنے والے بہترین قائد اور رہبر موجود ہوں لیکن عوام میدان میں نہ ہوں تو کوئی بھی کام یا تحریک کامیاب نہيں ہوسکتی۔  
 انہوں نے حضرت امیرالمومنین (ع) علیہ السلام کے اعلی مقام و مرتبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبرعظیم الشان اسلام کے بعد  اعلی ترین مرتبے پرفائز ہونے اور تقوا و ایمان کے لحاظ سے امیرالمومنین (ع) سے بالاتر کوئي بھی انسان روئے زمین پر نہیں ہے۔ وہ عدل مجسم ، قرآن ناطق اور پیغمبر کے حقیقی اور برحق جانشین و وصی تھے لیکن چونکہ عوام کا انہيں ساتھ نہیں ملا تو وہ 23 سال تک خانہ نشین رہے اور معاشرے میں  وہ اپنا کردار پوری طرح ادا نہ کرسکے کیونکہ عوام، ان کی حمایت میں میدان میں نہيں تھے ۔
 آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ آج خدا کے فضل سے ہمارا معاشرہ اللہ پرقوی ایمان ، ایک مقتدر ، توانا، نصرت الہی پر یقین رکھنے والے ، باشرف ، صابر و استوار اور عوامی رہبر کا مالک ہے ۔اور حقیقت میں امام خمینی (رح) کا یہ قول کہ ((حتی پیغمبروں کو بھی اس طرح کے لوگ نہيں ملے تھے)) انتہائی حقیقی اور قابل غور جملہ ہے ۔
آیت اللہ مروی نے واقعہ عاشورا کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اگر امام حسین علیہ السلام کے پاس اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہوتے اور اگراتنی بڑی تعداد میں مکہ اور کوفہ میں لوگ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ ہوتے جو اپنی دینی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوتے تو کیا واقعہ کربلا رونما ہوتا ؟ بلاشبہہ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ بڑی تعداد میں لوگوں کے نہ ہونے کی ہی وجہ سے یہ تاریخی حادثہ رونما ہوا  .
عوام کی موجودگی نظام کا سب سے بڑا سرمایہ ہے  
آيت اللہ مروی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ آج اس نظام کا سب سے عظیم سرمایہ عوام کی بابصیرت اور آگاہانہ موجودگی ہے کہا کہ خاص طور پرنوجوانوں کی موجودگی جو تمام تر مشکلات و پریشانیوں اور حتی بعض گلے اور شکوے کے باوجود میدان میں دیکھی جارہی ہے بہت ہی اہم اور تقدیر ساز ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے عوام جب بھی ملک، وطن، نظام، قرآن اور اسلام پر وقت آتا ہے تو وہ ہر طرح کے گلے شکوے بالائے طاق رکھ کر میدان میں اتر آتے ہيں 
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ جب تک دشمن اپنے مخاصمانہ اقدامات سے باز نہیں آجاتا اور ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم نہيں کرلیتا یہ تحریک اور میدان میں عوام کی موجودگی جاری رہے گی تاکہ دشمن پوری طرح شکست کھا کر بیٹھ جائے۔
دشمنوں کے غلط اندازے 
آيت اللہ مروی نے دشمنوں کے اندازوں کی غلطی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اپنے غلط اندازوں کی بنیاد پر سمجھ رہا تھا کہ تین دن کے اندر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا اور اس نے حتی علاقے کے بعض ملکوں سے وعدہ بھی کیا تھا کہ یہ جنگ طولانی نہيں ہوگی اور علاقائي سطح پر نہیں پھیلی گي اور ایران کو یہ جنگ علاقائی سطح پر پھیلانے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا لیکن آج ہفتوں گزر جانے کے بعد بھی الہی لطف و کرم ، شجاع اور فداکارسپاہیوں اور فوجیوں کی مجاہدت اور عوام کی فیصلہ کن موجودگی کے باعث، دشمن اپنا ایک بھی مقصد حاصل نہيں کرسکا 
 انہوں نے کہا کہ دشمن ہمیں دھمکیاں دے رہا تھا کہ ابراہم لینکن اور جرالڈ فورڈ جیسے بڑے بحری بیڑوں کو علاقے میں روانہ کردیا ہے اب میں پوچھنا چاہتاہوں کہ یہ بحری بیڑے اس وقت کہاں ہيں ؟ وہ کیوں اپنی کارروائیاں انجام دے کر اپنا مقصد حاصل نہيں کررہے ہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ ان حقائق سے واضح ہوجاتا ہے کہ دشمن کی طاقت کھوکھلی ہے ۔ 
 
سبھی ایرانی قومی اتحاد کے پرچم تلے ہیں 
آستان قدس رضوی کے متولی نے قومی اتحاد کے استحکام اورتقویت پر تاکیدکرتےہوئے کہا کہ قومی اتحاد کا سایہ زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے نیچے سب جمع ہوسکیں اور ہرایرانی کو اس پرچم کے نیچے آنا چاہئے ۔
 انہوں نے کہا کہ ہرفکر و نظریہ کے حامل ایرانی کو اس وقت ایک پرچم تلے ہونا اکٹھا چاہئے جیسا کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی نے فرمایا تھا کہ حتی وہ لوگ بھی جو نظام کو دوست نہيں رکھتے لیکن ایران سے محبت کرتے ہيں انہيں بھی چاہئے کہ وہ انتخابات میں شرکت کریں انہوں نے کہا کہ یہ زاویہ نگاہ معاشرے کے لئے ایک بڑا درس ہے ۔
آيت اللہ مروی نے اتحاد و یکجہتی پر رہبرشہید انقلاب کی مکرر تاکیدات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ رہبرشہید انقلاب ہمیشہ قومی اتحاد و یگانگت پر زور دیتے تھے اور اس اتحاد کو دشمنوں کی سازشوں کی ناکامی کا بنیادی عامل سمجھتے تھے ۔
 آيت اللہ مروی نے رہبرشہید انقلاب کی جانب سے (( اتحاد مقدس)) کی تعبیر کا  حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعبیر اسلامی معاشرے میں اتحاد کی اہمیت اور اس کے معنوی مقام و منزلت کو ظاہر کرتی ہے اوراس عظیم سرمایہ کا تحفظ سب کی ذمہ داری ہے 
 آيت اللہ مروی نے عمومی اعتماد کی تقویت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکومتی عہدیداروں اور سیاسی حکام پر مکمل اعتماد کرتے ہيں اور اسی طرح مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جو ملک کے دفاع کے لئے  غیرمعمولی جانفشانی اور فداکاری کا مظاہرہ کررہی ہيں ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے موجودہ صورتحال کی  اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ رہبرشہید انقلاب کی وصیت اتحاد اور يگانگت تھی اوراس گرانقدر میراث کی پاسداری کی جانی چاہئے اور آج ہر دور سے زیادہ یہ چیزملک اور وطن کے لئےاہم اور بنیادی اہمیت رکھتی ہے 
آستان قدس رضوی کے متولی آيت اللہ مروی نے کہا کہ اگر اس نظام کو  نقصان پہنچا تو اسلام کو نقصان پہنچے گا اس لئے جزوی اختلافات اور فرعی مسائل کو بنیادی اصولوں پر ترجیح نہيں دینا چاہئے اوراسلام کی حفاظت اور ملک کا دفاع سرفہرست ہونا چاہئے ۔ 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
آستان قدس رضوی کی جانب سے بیرون ملک مقیم زائرین کے لئے عطیات و نذورات کی ادائیگی کےطریقوں میں توسیع شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کی یاد میں حرم امام رضا(ع) میں تقریب کا انعقاد شہید رہبر انقلاب اسلامی کے ایصال ثواب کے لئے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی جانب سے مجلس ترحیم کا انعقاد حرم امام رضا(ع) میں شہید رہبر انقلاب اسلامی کی مزار شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے مزار پر عزاداروں اور سوگواروں کی حاضری مقاومت کے رنگ میں ڈوبی ایک شب کی روداد حرم امام رضا(ع) کا رواق غدیر شہید رہبر(رح) کے افغان سوگواروں کا میزبان شہید خامنہ ای تمام ادیان اورمکاتب کے لئے زندہ ہيں مشہد مقدس میں شہید رہبر انقلاب(رح) کی تشییع جنازہ ،عصر حاضر کا سب سے بڑا تاریخی واقعہ ہے   شہید رہبر(رح) کی تشیع جنازہ اور تدفین کے لئے آستان قدس رضوی کا چوتھا اعلامیہ حرم امام رضا(ع) میں واقع شہید رہبر(رح) کے تحائف کا میوزیم اور قرآنی میوزیم کھول دیا گیا ہے شہید رہبر کے تشیع جنازہ میں شرکت کے لئے آستان قدس رضوی کے متولی کا پیغام  بین الاقوامی سطح پر ’’قومو للہ‘‘ نعرے کی تشریح کے لئے نشست کا انعقاد ’’قائد الامۃ‘‘ کے عنوان سے لائیو ٹی وی پروگرام رہبرشہید کے سوگواروں کے لئے کرامت رضوی فاؤنڈیشن کی جانب سے پذیرائي کا وسیع انتظام (( آقای شہید ایران )) نامی چار جلدوں پر مشتمل کتاب منظرعام پر آگئی  شہید رہبر(رح) ایک قرآنی نابغہ اور قرآنی احکامات پرعمل کرنے والی شخصیت تھے؛ استاد پناہی رہبرشہید کے وداع کے ا یام میں حرم مطہر رضوی بند نہيں ہوگا  رہبرشہید ( رحمت اللہ علیہ ) کی یاد میں رضوی کتابخانہ اور میوزیمز میں تعزیتی جلسوں اور خصوصی پروگراموں کا انعقاد  روضہ منورہ امام رضا(ع) کے خدام ، سوگوار زائرین کو کھانے اور رہائش کی خدمات فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں جارجیا کے 130 رکنی مذہبی و ثقافتی وفد کا حرم امام رضا(ع) کے خدام کی جانب سےخصوصی استقبال